MOJ E SUKHAN

یہ خوابوں کے سائے

یہ خوابوں کے سائے
مری نیند کی شانت وادی میں
کس طرح آئے
کسی اور دنیا کے موہوم پیکر
کسی اور جنگل کی شاخوں کے سائے
پر اسرار جذبوں کی بارش میں بھیگے نہائے
گریزاں کئی ساعتوں کو اٹھائے
مرے پاس آئے
مگر میں بڑھی جب بھی
ان دھندلے خاکوں کو مٹھی میں بھرنے
وہ غائب ہوئے پیچ کھاتے ہوئے
اک گھنی دھند میں
ہاتھ میرے نہ آئے
مگر جب کبھی ہاتھ آئے
تو ان بے صدا پیکروں نے
نہاں خانۂ آرزو کے
کئی راز مجھ کو بتائے
کئی داغ مجھ کو دکھائے
یہ خوابوں کی بستی
کہ جس کی پراسرار راہوں میں گم
رات بھر میری ہستی
کوئی اس کی گہرائیوں کو بھلا کیسے پائے
کوئی اس کے سب راز کیسے بتائے

زاہدہ زیدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم