جب تک چپ ہے چپ رہنے دے چھیڑ نہ آس دیوانے کو
راز کی باتیں کھل جائیں گی طول نہ دے افسانے کو
ان کی محفل سے اٹھا تو گھر کا رستہ بھول گیا
مے خانے کا ہوش کسے ہے آگ لگے مے خانے کو
ہجر کی آگ میں جل کر جینا کھیل ہے ہم دیوانوں کا
جل مرنا عرفان نہیں ہے سمجھا دو پروانے کو
کل تک ہاتھ پکڑ کر مجھ کو مے خانے جو لاتا تھا
کیا جانے کیوں توڑ رہا ہے آج وہی پیمانے کو
جام پہ جام لنڈھائے مینا خالی کر دی مستوں نے
ایک ہی گھونٹ بچا تھا بسمل جب آئے سمجھانے کو
اقبال بسمل