MOJ E SUKHAN
No Record Found
ہے ہر اک شے زوال کی زد پراس پہ بھی اک زوال آئے گا
وقت کے بیکراں سمندر میںشام ہوتے ہی ڈوب جائے گا
سہیل غازی پوری
روح کی مانگ ہے وہ جسم کا سامان نہیں
کیسے رکھیں گے سر پہ کسی کا ادھار ہم
پرتوِ عکاس تھا وہ ، میں نہ تھا
خوبصورت زندگانی ہو رہی ہے
لوٹ کر آیا نہیں جب سے نکالا گیا ہے
گلی گلی مری وحشت لیے پھرے ہے مجھے
زندہ ہوں زندگی کے غموں کو سنبھالنے
سرمئی شام کی تلاش میں ہوں
اس شہر میں کچھ لوگوں سے پہچان ابھی ہے
آتش دلِ زار میں لگائی اس نے رباعی
تھا ہم سے بھی ربط یا کہ نہ تھا
جب سے وہ گئے ادھرنہیں یاد کیا رباعی
یہ حکم خدا کا کہ قطرہ مے کا نہ پیوں – Ye
مومن لازم ہے وضع مرغوب بنے
رباعیات حکیم عمر خیام نیشا پوری
کیا تیری جدائی میں ستم دیکھتے ہیں رباعی امیر مینائی
غائب بہت اے جان جہاں رہتے ہو رباعی امیر مینائی
باغوں میں جو قمریاں ہیں سب مٹی ہیں رباعی قلندر
سب ستارے لٹا دیۓ میں نے
ہوا کے واسطے اک کام چھوڑ آیا ہوں
ہوائے تیز ترا ایک کام آخری ہے
اک چراغِ آرزو پھر سے جلانا ہے مجھے
عشق جب تک جان و دل کا رہنما ہوتا نہیں
رازداں ہم نے بنایا آپ کو
جرم الفت کی سزا دینے لگے
از رہِ التفات بنتی ہے
میں نے تو درد کو سینے میں چھپا رکھا ہے
سنو اے باوفا لڑکے
تمہاری خاطر نقاب اوڑھوں نہ گھر سے نکلوں
تیرے جانے سے کچھ نہیں بدلا
ہو نے سر جو بدلا ہے
ادھر ادھر کی نہ تم سنانا بچھڑنے والے بتا کے جانا
آجکل دل کا عجب حال ہوا ہے جاناں
جا ترے بس میں نہیں یار محبت کرنا
نظم ہونے لگی
سنو میں مان لوں کیسے تمہیں مجھ سے محبت ہے