MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

یوں تو لکھنے کے لئے کیا نہیں لکھا میں نے

یوں تو لکھنے کے لئے کیا نہیں لکھا میں نے
پھر بھی جتنا تجھے چاہا نہیں لکھا میں نے

یہ تو اک لہر میں کچھ رنگ جھلک آئے ہیں
ابھی مجھ میں ہے جو دریا نہیں لکھا میں نے

میرے ہر لفظ کی وحشت میں ہے اک عمر کا عشق
یہ کوئی کھیل تماشا نہیں لکھا میں نے

لکھنے والا میں عجب ہوں کہ اگر کوئی خیال
اپنی حیرت سے نہ نکلا نہیں لکھا میں نے

میری نظروں سے جو اک بار نہ پہنچا تجھ تک
پھر وہ مکتوب دوبارہ نہیں لکھا میں نے

میری سچائی ہر اک لفظ سے لو دیتی ہے
جیسے سب لکھتے ہیں ویسا نہیں لکھا میں نے

رضی اختر شوق

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم