MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

نمک ان آنسوؤں میں کم نہ تھا پر نم بہت اچھا

نمک ان آنسوؤں میں کم نہ تھا پر نم بہت اچھا
گھروں میں دانۂ گندم نہ تھا ماتم بہت تھا

مری آنکھوں پہ بھی زرتار پردے جھولتے تھے
ترے بالوں میں بھی کچھ ان دنوں ریشم بہت تھا

مزے سارے تماشا گاہ دنیا میں اٹھائے
مگر اک بات جو دل میں تھی جس کا غم بہت تھا

سیاہی رات کی پیچھے سمندر دن کا آگے
ستارہ صبح کا میری طرح مدھم بہت تھا

بدلتے جا رہے تھے جسم اپنی ہیئتیں بھی
کہ رستہ تنگ تھا اور یوں کہ اس میں خم بہت تھا

محمد اظہار الحق

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم