MOJ E SUKHAN

یہ جو اک شاخ ہے ہری تھی ابھی

یہ جو اک شاخ ہے ہری تھی ابھی
اس جگہ پر کوئی پری تھی ابھی

سربسر رنگ و نور سے لبریز
اک صراحی یہاں دھری تھی ابھی

خاک کیسی ہے میرے پاؤں تلے
سات رنگوں کی اک دری تھی ابھی

اس خرابے میں کوئی اور بھی ہے
آہ کس نے یہاں بھری تھی ابھی

سانحہ کوئی یاں سے گزرا ہے
یہ فضا کیوں ڈری ڈری تھی ابھی

میں بساتا تھا اس کے دل میں گھر
اور قسمت میں بے گھری تھی ابھی

کیوں نہ کرتے ہم اس کی دل داری
اس میں کچھ خوئے دلبری تھی ابھی

اکبر معصوم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم