MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جدا بھی ہو کے وہ اک پل کبھی جدا نہ ہوا

جدا بھی ہو کے وہ اک پل کبھی جدا نہ ہوا
یہ اور بات کہ دیکھے اسے زمانہ ہوا

نہ پوچھ میرا پتہ موجۂ ہوا ہوں میں
بھلا ہوا کا بھی کوئی کبھی ٹھکانہ ہوا

ہر ایک سمت صحیفے کھلے پڑے تھے یہاں
ترا نصیب کہ تو حرف آشنا نہ ہوا

پناہ ملتی کسے میری کبریائی سے
خدا کا شکر میں بندہ ہوا خدا نہ ہوا

اس اپنی کھوج میں کیا کیا کھلے نہ بھید مگر
میں ہوں بھی یا کہ نہیں مجھ پہ آئنہ نہ ہوا

ندائے غیب تھی تیری صدا تھی دھڑکن تھی
مرے شعور سے اتنا بھی فیصلہ نہ ہوا

شجر تو راہ کا سایہ ہیں ان کو کیا معلوم
کہاں سے آیا مسافر کدھر روانہ ہوا

فقیر ہو کے لیا تو نے کیا بشیرؔ کہ جب
گلیم پوش بھی تو ہو کے با صفا نہ ہوا

بشیر احمد بشیر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم