MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جو تیرے حسن میں نرمی بھی بانکپن بھی ہے

جو تیرے حسن میں نرمی بھی بانکپن بھی ہے
وہ کیف تازہ بھی ہے نشۂ کہن بھی ہے

مجھے تو چین سے رہنے دے اے دل وحشی
کہ دشت بھی ہے ترے سامنے چمن بھی ہے

کہاں کی منزل مقصود راستہ بھی نہیں
سفر میں ساتھ خدا بھی ہے اہرمن بھی ہے

وہ ایک لمحہ پراں وہ ایک ساعت دید
حنا بدست بھی ہے لالہ‌ پیرہن بھی ہے

بچشم شبنم گریاں اگر کوئی دیکھے
ترا لباس ہی اے گل ترا کفن بھی ہے

وہ ایک گوشۂ جنت جسے دکن کہئے
نگار شاعر بدنام کا وطن بھی ہے

سلیمان اریب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم