MOJ E SUKHAN

کیا کسی سے کوئی کہے آخر

کیا کسی سے کوئی کہے آخر
اپنے اپنے نہ جب ہوئے آخر

میں شجر کی طرح ہوں ایستادہ
تم پرندے تھے اڑ گئے آخر

وقت نے کر دیا ہے سچ ثابت
غیر پھر تم بھی ہو گئے آخر

سارے صدمے تمھارے حصے کے
میں نے ہی جان پر سہے آخر

کب تلک روکتی ان آنکھوں میں
اشک ہی تھے ، چھلک پڑے آخر

روکتی میں زبان کس کس کی
لفظ دل میں بہت چبھے آخر

اور بھی تھے اسیر زنداں میں
پر ہمارے ہی کیوں کٹے آخر

باغباں کو کھٹک رہے تھے جو
آشیانے وہی جلے آخر

عشق کا انتخاب اور زریاب ؟
تم نے قصے نہیں سنے آخر

ہاجرہ نور زریاب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم