MOJ E SUKHAN

کوئی آنکھ چپکے چپکے مجھے یوں نہارتی ہے

کوئی آنکھ چپکے چپکے مجھے یوں نہارتی ہے
مرے دل میں اک تمنا کہیں سر ابھارتی ہے

مری سوچ کا طریقہ مری آنکھ کا سلیقہ
یہی شے ہے تیرے اندر جو تجھے سنوارتی ہے

نئے شوق کی چمک ہے کسی میہماں نظر میں
مری روح میں اتر کر مرے سر ابھارتی ہے

مجھے کچھ دنوں سے اس سے بڑا پیار مل رہا ہے
کبھی اپنے دل کو وارے کبھی جان ہارتی ہے

کبھی جوڑا کھول دینا کبھی پھر سے باندھ لینا
مجھے شک سا ہو چلا ہے وہ مجھے ابھارتی ہے

کوئی گونج بن کے اب تک وہ ہے جسم و جاں سے لپٹی
کہ ٹھہر ٹھہر کے اب بھی وہ مجھے پکارتی ہے

گھنے ہو گئے زیادہ جہاں چاندنی کے سائے
اسی دامن شجر میں وہ مجھے پکارتی ہے

نیا حسن دیکھتا ہوں خم شاخ ہر شجر پر
یہ بہار اپنے تن سے جو لباس اتارتی ہے

کئی سال کی محبت مگر آج بھی وہی ہے
کہ میں اک شریر بچہ وہ مجھے سدھارتی ہے

بڑی دیر سے ہوں لوٹا مجھے یہ بتاؤ لوگو
مری آرزو کا دامن وہ کہاں پسارتی ہے

جو مرا ہے حادثے میں مرا اس سے کیا تھا رشتہ
یہ سڑک جو خوں میں تر ہے مجھے کیوں پکارتی ہے

ف س اعجاز

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم