MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

چلو پچھلے سفر کے تلخ منظر بھول جاتے ہیں

چلو پچھلے سفر کے تلخ منظر بھول جاتے ہیں
جزیرے یاد رکھتے ہیں، سمندر بھول جاتے ہیں

چلو اس کے لیے کرتے ہیں سارے راستے روشن
اندھیرے کس قدر ہیں اپنے اندر، بھول جاتے ہیں

انا، پندار، دنیاوی مراتب، ذات اور نسلیں
ہر اک پہچان اپنی، اس کے در پر بھول جاتے ہیں

محبت کی طرح، ترکِ محبت میں بھی نادانی
نہیں اب اس کو کرنا یاد، اکثر بھول جاتے ہیں

تمہارے چاہنے والوں کے جذبے سچ سہی لیکن
یہاں ہر شے ہے مرہونِ مقدر، بھول جاتے ہیں

ہے تجدیدِ مراسم کا ارادہ تو چلو پہلے
لگائے کس نے کیا الزام کس پر بھول جاتے ہیں

نعیم ان کو سبھی چھوٹے بڑے انساں ڈراتے ہیں
جو اپنے ذہن سے ” اللہ اکبر” بھول جاتے ہیں

(محمد نعیم جاوید نعیم)

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم