دل کی جو سر زمین لگتی ہے
تیرے زیر نگین لگتی ہے
دیکھ تیرا خیال آتے ہی
زندگانی حسین لگتی ہے
آج خود پر بھی پیار آیا ہے
چاند جیسی جبین لگتی ہے
جس جگہ تو کبھی نظر آئے
وہ بہشتِ یقین لگتی ہے
اپنی قسمت جہان بھر میں ہمیں
بہتر و بہتریں لگتی ہے
وہ نظر دل نواز زرغونے
دل کی ہی ہم نشین لگتی ہے
زرعونے خالد