MOJ E SUKHAN

دور ہے یہ عجب ہر کوئی ڈھونگ ہے

دور ہے یہ عجب ہر کوئی ڈھونگ ہے
سب ہیں فنکار یہ زندگی ڈھونگ ہے

دل میں نفرت چھپا کر ملیں سب یہاں
ہنس کے ملتا ہے جو آدمی ڈھونگ ہے

بیٹھے مصرعوں سے مصرعے ملاتے رہو
کھیل لفظوں کا ہے شاعری ڈھونگ ہے

ہے ریا کار منبر پہ بیٹھا ہوا
اور مجذوب کی بے خودی ڈھونگ ہے

سر ہے سجدے میں لیکن دھیان ہے کہاں
یہ عبادت بھی اک آخری ڈھونگ ہے

ہالہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم