MOJ E SUKHAN

ہم ترے غم کے پاس بیٹھے تھے

غزل

ہم ترے غم کے پاس بیٹھے تھے
دوسرے غم اداس بیٹھے تھے

بس وہی امتحاں میں پاس ہوئے
جو ترے آس پاس بیٹھے تھے

شاہ کو بھا گئی تھی اک داسی
سب مصاحب اداس بیٹھے تھے

آندھی آئی تو انکشاف ہوا
کرسیوں پر لباس بیٹھے تھے

بام و در کو نہیں دکھائی دئے
تم ہمارے ہی پاس بیٹھے تھے

آج تھا بادشاہ کا تیجا
قبر پر صرف داس بیٹھے تھے

دوستوں نے ہنسا دیا آ کر
اچھے خاصے اداس بیٹھے تھے

فہمی بدایونی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم