MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

زندگی اک آگ ہے وہ آگ جلنا چاہئے

غزل

زندگی اک آگ ہے وہ آگ جلنا چاہئے
بے حسی اک برف ہے اس کو پگھلنا چاہئے

موت بھی ہے زندگی اور موت سے ڈرنا فضول
موت سے آنکھیں ملا کر مسکرانا چاہئے

ولولے طوفان و آندھی برق و باراں زلزلے
ان نئے سانچوں میں ہم کو آج ڈھلنا چاہئے

بھوک بیکاری کے شکوے ان سے کرنا ہے فضول
ان کے آگے تان کر سینہ نکلنا چاہئے

نے دیا ہے اور نہ دیں گے یہ مصائب کا جواب
اب ہمیں تقدیر اپنی خود بدلنا چاہئے

ہو گلی کوچے میں چرچا بات یہ کافی نہیں
دشمنوں کے پاؤں کی دھرتی دہلنا چاہئے

احسان جعفری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم