MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

نہ گھر ہے کوئی نہ سامان کچھ رہا باقی

غزل

نہ گھر ہے کوئی نہ سامان کچھ رہا باقی
نہیں ہے کوئی بھی دنیا میں سلسلہ باقی

یہ کھیل ختم کرو اقتدار کا یہ کھیل
کہ ہے قریب اجل کے ترا گلا باقی

مقام عبرت فانی سے کون ہے محفوظ
کہ کون حاکم اسباب رہ گیا باقی

سکوت مرگ کے رستہ پہ کچھ نہیں تھا مگر
کوئی چلا ہی کہاں تھا کہ کب رکا باقی

یہ کیسا عالم ویران ہے نظر سے پرے
نہ دن بچا ہے نہ ہی رات کا سرا باقی

بہت نہ تھوڑا سر عام زندگی کا شور
کہ درمیان ہی سنتے ہیں اک صدا باقی

احمد ہمیش

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم