MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کسی سے کوئی نہ بولا فضا ہی ایسی تھی

غزل

کسی سے کوئی نہ بولا فضا ہی ایسی تھی
نہ دل نے دل کو ٹٹولا فضا ہی ایسی تھی

زبان درد سے لیکر دہانِ زخم تلک
کوئی بھی کھل کے نہ بولا فضا ہی ایسی تھی

سکوں کے در پئے آزار سب ہوئے لیکن
جنوں سے کوئی نہ بولا فضا ہی ایسی تھی

ہوا چلی بھی تو ماحول کے رگ و پے میں
ہوا نے زہر ہی گھولا فضا ہی ایسی تھی

کہیں قریب مکانوں سے اٹھ رہا تھا دھواں
دریچہ پھر بھی نہ کھولا فضا ہی ایسی تھی

برستی آنکھوں نے آنکھوں سے کچھ سوال کئے
کوئی بھی منہ سے نہ بولا فضا ہی ایسی تھی

رسائی ہو بھی گئی وقت کی عدالت تک
وہاں بھی کوئی نہ بولا فضا ہی ایسی تھی

عجب ستم ہے کہ میزان خیر و شر میں‌ حنیف
یقیں کو وہم میں تولا فضا ہی ایسی تھی

(حنیف اسعدی)​

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم