MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جادۂ الفت کا یہ صبر آزما عالم نہ پوچھ

غزل

جادۂ الفت کا یہ صبر آزما عالم نہ پوچھ
ہر قدم پر غم کی منزل کے سوا کچھ بھی نہیں

یوں تصور نے بڑھائے حوصلے طوفان میں
جیسے ہر اک موج ساحل کے سوا کچھ بھی نہیں

ان کی خلوت گاہ بھی ہے ان کی جلوت گاہ بھی
وسعت کونین میں دل کے سوا کچھ بھی نہیں

ذرے ذرے میں ہیں رنگا رنگ بزم آرائیاں
دونوں عالم تیری محفل کے سوا کچھ بھی نہیں

بس اجل کے بعد ملتی ہے حیات جاوداں
زندگی اک نقش باطل کے سوا کچھ بھی نہیں

شکوۂ بے چارگی میکشؔ کسی سے کیوں کریں
عشق تو محرومیٔ دل کے سوا کچھ بھی نہیں

استاد عظمت حسین خاں

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم