MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ہم زمین زادوں کو آسماں بنا جانا

غزل

ہم زمین زادوں کو آسماں بنا جانا
پہلے خاک کر دینا اور پھر اڑا جانا

جسم سے جدا رہنا روح میں سما جانا
کوئی آپ سے سیکھے جان پر بنا جانا

بے شعور ساتھی نے ساحلوں کے باسی نے
ہم کو سر پھرا سمجھا دشت کی ہوا جانا

اور گر قریب آتے نقش اور دھندلاتے
قربتوں کی دوری کو تم نے فاصلہ جانا

بے ضمیر شہروں کے بے ضمیر لوگوں سے
جو بھی مل گیا ہم کو وہ تری عطا جانا

شفیق سلیمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم