MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اب یہ آنکھیں کسی تسکین سے تابندہ نہیں

غزل

اب یہ آنکھیں کسی تسکین سے تابندہ نہیں
میں نے رفتہ سے یہ جانا ہے کہ آئندہ نہیں

تیرے دل میں کوئی غم میرا نمائندہ نہیں
آگہی تیری مژہ پر ابھی رخشندہ نہیں

دل ویراں دم عیسیٰ ہے گئے وقت کی یاد
کون سا لمحۂ رفتہ ہے کہ پھر زندہ نہیں

تو بھی چاہے تو نہ آئے گی وہ بیتی ہوئی رات
ہے وہی چاند مگر ویسا درخشندہ نہیں

ابر آوارہ سے مجھ کو ہے وفا کی امید
برق بے تاب سے شکوہ ہے کہ پائندہ نہیں

کبھی غنچے کو مہکنے سے کوئی روک سکا
شوق اگر ہے تو پھر اظہار سے شرمندہ نہیں

ضیا جالندھری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم