MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جاتے ہوئے نگاہ ادھر کر کے دیکھ لو

غزل

جاتے ہوئے نگاہ ادھر کر کے دیکھ لو
ہم لوگ پھر کہاں ہمیں جی بھر کے دیکھ لو

دیتا ہے اب یہی دل شوریدہ مشورہ
جینے سے تنگ ہو تو میاں مر کے دیکھ لو

رہنے کا دشت میں بھی سلیقہ نہیں گیا
یاں بھی قرینے سارے مرے گھر کے دیکھ لو

شاہان کج کلاہ زمیں بوس ہو گئے
تیور مگر وہی ہیں مرے سر کے دیکھ لو

سجدے میں دو جہان ہیں اے دلؔ ہمارے ساتھ
رتبے یہ آستان قلندر کے دیکھ لو

دل ایوبی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم