MOJ E SUKHAN

نظر نظر سے وہ کلیاں کھلا کھلا بھی گیا

غزل

نظر نظر سے وہ کلیاں کھلا کھلا بھی گیا
گل مراد کو قدموں میں روندتا بھی گیا

بلند شاخ کے گل کی طرح نہ ہاتھ آیا
وہ رفعتوں پہ رہا اپنی چھب دکھا بھی گیا

مجھے نوید جدائی سنانے آیا تھا
جدا ہوا تو مری سمت دیکھتا بھی گیا

وہ زخم زخم پہ مرہم لگانے آیا تھا
ادائے بخیہ گری سے انہیں دکھا بھی گیا

وہ میرا شعلہ جبیں موجۂ ہوا کی طرح
دیئے جلا بھی گیا اور دیئے بجھا بھی گیا

وہ کم نگاہ تھا کم ظرف تو نہ تھا کہ مجھے
پیالہ دے بھی گیا تشنگی بڑھا بھی گیا

سخن کے آئنوں میں دیکھ دیکھ اپنے نقوش
جھجک جھجک بھی گیا اور جھومتا بھی گیا

مری ہی طرح تھا وہ بھی جنوں کی زد میں مگر
مجھے سنبھال کے خود کو سنبھالتا بھی گیا

وہ جس کا دامن شفاف اب بھی ہے بے داغ
وفور شوق میں مجھ کو گلے لگا بھی گیا

اس اک نظارے میں تھے کتنے دیدنی پہلو
وہ میرے حال پہ رویا بھی مسکرا بھی گیا

غم وداع میں پنہاں تھا اور بھی اک غم
کہ دل سے شوق ملاقات بارہا بھی گیا

فراق یوسف گم گشتہ کم نہ تھا صادق
کہ میرے ہاتھ سے کنعان کوئٹہ بھی گیا

صادق نسیم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم