MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اس چھوٹے سے شہر میں کب تک چھپا رہے گا آخر وہ

اس چھوٹے سے شہر میں کب تک چھپا رہے گا آخر وہ
یہیں کہیں پہ ڈھاتا ہوگا کوئی نیا من مندر وہ

آگ سی خصلت ہوا طبیعت بس یہ ہی اوصاف بچے
پانی مٹی جیسے بھول کے آیا کہاں عناصر وہ

نا ممکن تھا ہم دونوں میں کاروبار محبت کا
میرا تھا ایمان وفا پر اور وفا کا تاجر وہ

دونوں اپنی اپنی ریت نبھانے پر مجبور ہوئے
میں اک پیڑ تھی جیسے رستہ بھولا ایک مسافر وہ

آئینے بے عیب سبھی تھے لیکن پھر بھی توڑ گیا
یہ آساں تھا اپنے نقش بدلنے سے تھا قاصر وہ

لوٹ کے جو لے جائیں بستی ان کو لوٹے تنہائی
اپنے گھر سے اک دن ہو جائے گا نورؔ مہاجر وہ

شہناز نور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم