MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

پربت ترے پہلو میں اگر کھائی نہیں ہے – Parbat tere pehlu main agar khaai nahi hai

پربت ترے پہلو میں اگر کھائی نہیں ہے
کاہے کی بلندی جہاں گہرائی نہیں ہے

اس واسطے بھی روشنی ہے باعثِ وحشت
آنکھوں کی چراغوں سے شناسائی نہیں ہے

ہوتا نہیں اب کوئی وہاں اس لیے رسوا
کوچے میں ترے کوئی تماشائی نہیں ہے

حضرت جو رواداری نظر آپ میں آئی
وہ آپ کے بچوں میں نظر آئی نہیں ہے

دنیا نے تو اس میں بھی کئی نقص نکالے
تصویر جو میں نے ابھی بنوائی نہیں ہے

خود بانٹ کے آئیں گے وہاں اپنی صدا ہم
جس سمت ہواؤں نے یہ پہنچائی نہیں ہے

ویسے تو ہر اک شخص کو ہوتی ہے محبت
اور سب ہی یہ کہتے ہیں کہ دانائی نہیں ہے

دنیا سے الگ ہو کے حسن ہم نے کئی بار
دیکھا ہے کسی کام کی تنہائی نہیں ہے

احتشام حسن

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم