رنگینیاں بہار کی ، بعدِ خزاں مجھے
آجائیں راس ! ایسا نہیں ہے گماں مجھے
یا تو سکوتِ قلب ہی درماں ہو درد کا
یا دے سکونِ قلب کو بھی اک جہاں مجھے
مانا کہ قید ہوں ابھی، اس جسم و جاں کے بیچ
دشوار پر نہیں ہے کوئی کہکشاں مجھے
لے آیا ہے جنوں جو سرِ لامکاں تو اب
کوئی پکارتا ہے پسِ لامکاں مجھے
کاشفؔ! خبر ہے، شہر خموشاں کو ایک دن
گھر سے چلے گا لے کے کوئی کارواں مجھے
کاشف علی ہاشمی