MOJ E SUKHAN

ہو گیا شام دن بھی ڈھل ڈھل کر

ہو گیا شام دن بھی ڈھل ڈھل کر
تھک گیا ہوں زمیں پہ چل چل کر

گل ہوئے ہیں چراغ جل جل کر
موت آئے گی میری ٹل ٹل کر

اشک آنکھوں سے اس طرح نکلے
شمع پگھلی ہو جیسے جل جل کر

پھر اٹھیں گے دعائیں دینے کو
ہاتھ رہ جائیں کیسے مل مل کر

ہم فقیروں کے بھیس میں شب کو
در پہ آئے تمہارے چل چل کر

ہائے افسوس ڈستے جاتے ہیں
آستینوں میں سانپ پل پل کر

آتشِ غم میں ایک تم ہی نہیں
خاک ہم بھی ہوئے ہیں جل جل کر

کوچہ عشق کے خرابے میں
تھک گئے پاؤں میرے چل چل کر

گوشہء دل میں ان کو دیکھا ہے
اپنی آنکھوں کو آج مل مل کر

باغِ الفت میں آج کل قیصر
پھل بھی گرنے لگے ہیں گل گل کر

رانا خالد محمود قیصر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم