MOJ E SUKHAN

آؤ صحرا میں سمندر ہے دکھا دوں تم کو

آؤ صحرا میں سمندر ہے دکھا دوں تم کو
ہاں میری آنکھ کے اندر ہے دکھا دوں تم کو

جن کے ہر درد پہ روئے جنہیں اپنا سمجھا
ان کے ہاتھوں میں بھی پتھر ہے دکھا دوں تم کو

چند لوگوں کی ہتھیلی پہ لکیریں ہی نہیں
ان کے بھی ساتھ مقدّر ہے دکھا دوں تم کو

جس کے ہر شعر پہ ہے داد کا تحسین کا شور
پھر بھی گمنام سخنور ہے دکھا دوں تم کو

جو سیاست کا گرو ہے بڑا لیڈر بھی وہی
وہ بھی قاتل ہے ستمگر ہے دکھا دوں تم کو

مست رہتا ہے وہ جس حال میں ہو شکر کرے
بس وہی مردِ قلندر ہے دکھا دوں تم کو

سب کی سنتا ہے مگر بولتا کم ہے کاوش
ہاں وہی شخص جو بہتر ہے دکھا دوں تم کو

کاوش کاظمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم