MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اس شہر کے لوگوں میں وفا ہے کہ نہیں ہے

غزل

اس شہر کے لوگوں میں وفا ہے کہ نہیں ہے
دروازہ کسی گھر کا کھلا ہے کہ نہیں ہے

لوٹ آئی ہیں چلمن ہی سے ٹکرا کے نگاہیں
وہ جان حیا اپنی جگہ ہے کہ نہیں ہے

موجیں مجھے ساحل کی طرف لا تو رہی ہیں
معلوم نہیں اس کی رضا ہے کہ نہیں ہے

یارو مرے دم تک تو بڑا شور تھا لیکن
ویرانے میں اب کوئی صدا ہے کہ نہیں ہے

جس دور میں انصاف ہو قاتل کا طرف دار
اس دور میں جینا بھی سزا ہے کہ نہیں ہے

اے بھولنے والے مجھے اتنا تو بتا دے
اس درد کی دنیا میں دوا ہے کہ نہیں ہے

منزل پہ پہنچنے کا ارادہ ہے تو شاداںؔ
یہ فکر نہ کر راہنما ہے کہ نہیں ہے

شاداں بدایونی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم