غزل
اس شہر کے لوگوں میں وفا ہے کہ نہیں ہے
دروازہ کسی گھر کا کھلا ہے کہ نہیں ہے
لوٹ آئی ہیں چلمن ہی سے ٹکرا کے نگاہیں
وہ جان حیا اپنی جگہ ہے کہ نہیں ہے
موجیں مجھے ساحل کی طرف لا تو رہی ہیں
معلوم نہیں اس کی رضا ہے کہ نہیں ہے
یارو مرے دم تک تو بڑا شور تھا لیکن
ویرانے میں اب کوئی صدا ہے کہ نہیں ہے
جس دور میں انصاف ہو قاتل کا طرف دار
اس دور میں جینا بھی سزا ہے کہ نہیں ہے
اے بھولنے والے مجھے اتنا تو بتا دے
اس درد کی دنیا میں دوا ہے کہ نہیں ہے
منزل پہ پہنچنے کا ارادہ ہے تو شاداںؔ
یہ فکر نہ کر راہنما ہے کہ نہیں ہے
شاداں بدایونی
