MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

تُو ہوا دربدر اب مجھے یاد کر

غزل

تُو ہوا دربدر اب مجھے یاد کر
درد سے آگزر اب مجھے یاد کر

خوبصورت سماں میری یادیں حسیں
غم بھُلا صبر کر اب مجھے یاد کر

کھوجتے کھوجتے مجھ کو اب ہر جگہ
کھوگئی کیا نظر؟ اب مجھے یاد کر

وا کیا زیست کا در ترے واسطے
گُم گیا پھر یہ در اب مجھے یاد کر

زندگی کے سفر میں کبھی ساتھ تھے
یاد کر ہم سفر اب مجھے یاد کر

میں نے کوشش کی طوفاں کی دے دوں خبر
تُو رہا بے خبر اب مجھے یاد کر

یاد کرتے ہوئے مجھ کو تُو رو پڑے
آنکھ تیری ہو تر اب مجھے یاد کر

میں اکیلی چلی مجھ کو منزل ملی
تُو رہا بے ثمرؔ اب مجھے یاد کر

ثمرین ندیم ثمر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم