MOJ E SUKHAN

جس دم ترے کوچے سے ہم آن نکلتے ہیں

غزل

جس دم ترے کوچے سے ہم آن نکلتے ہیں
ہر گام پہ دہشت سے بے جان نکلتے ہیں

یہ آن ہے اے یارو یا نوک ہے برچھی کی
یا سینے سے تیروں کے پیکان نکلتے ہیں

رندوں نے کہیں ان کی خدمت میں بے ادبی کی
جو شیخ جی مجلس سے سرسان نکلتے ہیں

یہ طفل سرشک اپنے ایسا ہو میاں بہکیں
بے طرح یہ اب گھر سے نادان نکلتے ہیں

یہ ضد ہے جنہیں یارو آ جائیں جو مشہد پر
تو تھام کے ہاتھوں سے دامان نکلتے ہیں

کس طرح غبار ان تک پہنچے گا بھلا اپنا
آصفؔ جو کبھی گھر سے خوبان نکلتے ہیں

آصف الدولہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم