MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

خدا تھا منتظر اک آدمی کا

غزل

خدا تھا منتظر اک آدمی کا
یہ قصہ ہے کسی روشن صدی کا

ملے جلتا ہوا گھر جب کسی کا
تو لکھنا مرثیہ تم روشنی کا

جو ممکن ہو تو زندہ رکھنا رشتہ
انا کا اور نیزے کی انی کا

کہیں خوشبو نفس کی اڑ نہ جائے
لفافہ بند رکھنا زندگی کا

شریف شہر سمجھے گا بھی کیسے
مزہ ہم جیسوں کی آوارگی کا

قیس رامپوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم