MOJ E SUKHAN

درد لکھ کر مٹا دیا میں نے

درد لکھ کر مٹا دیا میں نے
غم کو اک قہقہ دیا میں نے

جس کی خاطر جہاں کو چھوڑا وہ
کہہ رہا ہے کہ کیا دیا میں نے

جب وہ روٹھا مجھے مناتے ہوئے
آخرش مسکرا دیا میں نے

کیسے لوٹاؤں میں خطوط اس کے
جوتھا سب کچھ جلا دیا میں نے

کیا خبرتجھ کو اپنے اشکوں سے
کتنا کاجل بہادیا میں نے تھا

وہ جو ممکن نہیں، بفضلِ خدا
کرکے ممکن دکھادیا میں نے

اپنی چندری کو دیش کی خاطر
دیکھ پرچم بنا دیا میں نے

ایک طوفاں ٹھہر نہیں پایا
چٹکیوں میں اڑادیا میں نے

مان کر ہار پھر سے میں نے قمر
اس کو پھر سے ہرادیا میں نے

قمرسرور.

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم