غزل
دل سے مری یادوں کو رہا کیوں نہیں کرتے
تم پھول سے خوشبو کو جدا کیوں نہیں کرتے
رشتوں کے بکھرنے کا سبب ہم سے نہ پوچھو
تم خود ہی بتاؤ کہ وفا کیوں نہیں کرتے
برسوں سے کوئی خط نہیں آیا مرے گھر پر
اب نامہ یہاں لوگ لکھا کیوں نہیں کرتے
جو دور ہوا ہم سے وہی پوچھ رہا ہے
ہم فاصلہ مٹنے کی دعا کیوں نہیں کرتے
کیوں ماضی کی ہر یاد سجا رکھی ہے گھر میں
ہے درد پرانا تو دوا کیوں نہیں کرتے
محفل میں تو تم نام مرا لے نہیں سکتے
تنہائی میں بھی ذکر مرا کیوں نہیں کرتے
برسوں سے ولاؔ ایک کنارے پہ کھڑی ہے
تم نیل کے ساحل پہ ملا کیوں نہیں کرتے
ولاء جمال العسیلی