MOJ E SUKHAN

دن کچھ ایسے گزارتا ہے کوئی

غزل

دن کچھ ایسے گزارتا ہے کوئی
جیسے احساں اتارتا ہے کوئی

دل میں کچھ یوں سنبھالتا ہوں غم
جیسے زیور سنبھالتا ہے کوئی

آئنہ دیکھ کر تسلی ہوئی
ہم کو اس گھر میں جانتا ہے کوئی

پیڑ پر پک گیا ہے پھل شاید
پھر سے پتھر اچھالتا ہے کوئی

دیر سے گونجتے ہیں سناٹے
جیسے ہم کو پکارتا ہے کوئی

گلزار

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم