MOJ E SUKHAN

دور اندیش مریضوں کی یہ عادت دیکھی

دور اندیش مریضوں کی یہ عادت دیکھی
ہر طرف دیکھ لیا جب تری صورت دیکھی

آئے اور اک نگۂ خاص سے پھر دیکھ گئے
جبکہ آتے ہوئے بیمار میں طاقت دیکھی

قوتیں ضبط کی ہر چند سنبھالے تھیں مجھے
پھر بھی ڈرتے ہوئے میں نے تری صورت دیکھی

محفلِ حشر میں یہ کون ہے میرِ مجلس
یہ تو ہم نے کوئی دیکھی ہوئی صورت دیکھی

سب یہ کہتے ہیں اسے اب کوئی آزار نہیں
کیوں ستم گار مرے ضبط کی قوت دیکھی

سونے والوں پہ نہ چمکا کبھی نورِ سحری
رونے والوں ہی کے چہروں پہ صباحت دیکھی

اس قدر یاس بھی ہوتی ہے کہیں دنیا میں
رو دیے ہم جو تری چشمِ عنایت دیکھی

مجھ کو تعلیم سے فرصت ہی کہاں اے شبیرؔ
کہہ لیا شعر کوئی جب کبھی فرصت دیکھی
٭٭٭​

جوشؔ ملیح آبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم