غزل
رات اور خواب کا ناتا نہیں بھولا جاتا
ساتھ میں جاگنے والا نہیں بھوا جاتا
جسم سے جان کا رشتہ تو کوئی بات نہیں
جسم سے جسم کا رشتہ نہیں بھولا جاتا
کتنی زنجیریں کھنکتی ہیں بکھرتی ہیں مگر
اس کا بدلا ہولہجہ نہیں بھولا جاتا
راستے زیرِ اثر جس کے ابھی تک ہیں تمام
روشنی کا وہ جھماکا نہیں بھولا جاتا
کتنی آنکھیں مرے چہرے پہ جمی ہیں لیکن
اس کی نظروں کا سلیقہ نہیں بھولا جاتا
غم نے ماں کی طرح آغوش میں لے رکھا ہے
پر اس آغوش کا کسنا نہیں بھول اتا
پیر چاٹے تھے مرے جس نے گلی میں اس کی
آج تک مجھ سے وہ کتا نہیں بھولا جاتا
چھین کر بھاگا تھ تصویر جو اس کی مجھ سے
ایک کم سن سا وہ لڑکا نہیں بھولا جاتا
اس کی سب عادتیں میں بھو چا ہوں لیکن
وہ مری ٹوہ میں رہنا نہیں بھولا جاتا
محسن اسرار