MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

سخن کے شوق میں توہین حرف کی نہیں کی

سخن کے شوق میں توہین حرف کی نہیں کی
کہ ہم نے داد کی خواہش میں شاعری نہیں کی

جو خود پسند تھے ان سے سخن کیا کم کم
جو کج کلاہ تھے ان سے تو بات بھی نہیں کی

کبھی بھی ہم نے نہ کی کوئی بات مصلحتاً
منافقت کی حمایت، نہیں، کبھی نہیں کی

دکھائی دیتا کہاں پھر الگ سے اپنا وجود
سو ہم نے ذات کی تفہیم آخری نہیں کی

اسے بتایا نہیں ہے کہ میں بدن میں نہیں
جو بات سب سے ضروری ہے وہ ابھی نہیں کی

بہ نام خوش نفسی ہم تو آہ بھرتے رہے
کہ صرف رنج کیا ہم نے، زندگی نہیں کی

ہمیشہ دل کو میسر رہی ہے دولت ہجر
جنوں کے رزق میں اس نے کبھی کمی نہیں کی

بصد خلوص اٹھاتا رہا سبھی کے یہ ناز
ہمارے دل نے ہماری ہی دلبری نہیں کی

جسے وطیرہ بنائے رہی وہ چشم غزال
وہ بے رخی کی سہولت ہمیں بھی تھی، نہیں کی

ہے ایک عمر سے معمول روز کا عرفانؔ
دعائے رد انا ہم نے آج ہی نہیں کی

عرفان ستار

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم