MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

شرمندہ ہم جنوں سے ہیں اک ایک تار کے

غزل

شرمندہ ہم جنوں سے ہیں اک ایک تار کے
کیا کیجیے کہ دن ہیں ابھی تک بہار کے

اے عمر شوق دیکھیے ملتا ہے کیا جواب
ہم نے کسی کا نام لیا ہے پکار کے

سرگشتۂ الم ہو کہ شوریدہ سر کوئی
احساں ہیں اہل شوق پہ دیوار یار کے

اللہ رے انتظار بہاراں کی لذتیں
گزری ہے یوں خزاں بھی کہ دن ہوں بہار کے

تابشؔ سکون درد سے تسکین مرگ تک
دل ہو اگر تو لاکھ ہیں پہلو قرار کے

تابش دہلوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم