MOJ E SUKHAN

لب کو تیرے مے کشی دے جاؤں گی

غزل

لب کو تیرے مے کشی دے جاؤں گی
اور زباں کو شاعری دے جاؤں گی

یوں نظر انداز نہ کر ہم نشیں
تیری پلکوں پر نمی دے جاؤں گی

راس نہ آئے گی تجھ کو بزم خاص
انجمن کو وہ کمی دے جاؤں گی

خالی ہوگا دل کا جب کشکول تب
میں انا کو مفلسی دے جاؤں گی

تو بظاہر ہوگا اک دانش مگر
قیس سی دیوانگی دے جاؤں گی

کاش تو ہوتا تجسس آشنا
روح کو میں تشنگی دے جاؤں گی

تیرے محور کا قمر بن کر شغفؔ
میں سدا کی تیرگی دے جاؤں گی

پروین شغف

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم