MOJ E SUKHAN

مسلسل ریگزاروں کا سفر ہے

مسلسل ریگزاروں کا سفر ہے
محبت اصل میں کار دگر ہے

حقیقت کیا ہے اور کیا ہے فسانہ
یہ سب کچھ منحصر حالات پر ہے

رگوں میں آگ سی بھر دے تو صحرا
سکوں سے نیند آ جائے تو گھر ہے

دیار دیدہ و دل میں ابھی تک
خوشی نا معتبر غم معتبر ہے

جو کل صحرا نوردی پر تھا مائل
وہ اب منت کش دیوار و در ہے

ازل سے ہوں سزاوار مسافت
سفر پیہم سفر پیہم سفر ہے

سراپا طفل ناداں رازؔ بن جا
خیال خاطر احباب گر ہے

رفیع الدین راز

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم