MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ٹھکانے یوں تو ہزاروں ترے جہان میں تھے

ٹھکانے یوں تو ہزاروں ترے جہان میں تھے
کوئی صدا ہمیں روکے گی اس گمان میں تھے

عجیب بستی تھی چہرے تو اپنے جیسے تھے
مگر صحیفے کسی اجنبی زبان میں تھے

بہت خوشی ہوئی ترکش کے خالی ہونے پر
ذرا جو غور کیا تیر سب کمان میں تھے

علاج ڈھونڈھ نکالیں گے اپنی وحشت کا
جنوں نواز ابھی تک اسی گمان میں تھے

ہم ایک ایسی جگہ جا کے لوٹ کیوں آئے
جہاں سنا ہے کہ سب آخری زمان میں تھے

آشفتہ چنگیزی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم