پارسائ کا سکہ چلاتے رہے
صبح تک شیخ جی مے پلاتے رہے
بزم رنداں میں مل بیٹھنے کے لئے
یار کی زلف کو ھم اڑاتے رہے
آج پھر تیرگی نے اجالا کیا
دیکھ کر شیخ جی مسکراتے رہے
وہ سناتے رہے ہم کو روداد غم
ہم بھی ان کو غزل یہ سناتے رہے
آپ کے نام پر اے مری جان جاں
تیر پر تیر کیوں لوگ کھاتے رہے
یا د ناہید کو کر کے اب رات بھر
آپ آنسو بھلا کیوں بہاتے رہے
ناہید علی