MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

چہرے سے وہ نقاب جو سرکا کے رہ گئے

چہرے سے وہ نقاب جو سرکا کے رہ گئے
ارمان میری چشم تمنا کے رہ گئے

میخانہ امید میں ہم جاکے رہ گئے
ساقی نے ڈالی آنکھ تو غش کھا کے رہ گئے

لائے نہ تاب دید تو غش کھا کے رہ گئے
دعوے تمام حضرت موسیٰ کے رہ گئے

ہم اپنی سخت جانی سے جھنجھلا کے رہ گئے
گردن جھکائی کٹ گئے شرما کے رہ گئے

آنکھیں ملائیں کیا کہ پلائے ہیں خم کے خم
احسان ہم پہ ساغر و صہبا کے رہ گئے

کہنے دیا نہ حشر میں کچھ رب حسن نے
شکوے مری زبان پہ آ آ کے رہ گئے

طولانیاں فراق کی بڑھتی رہیں یونہی
پھندوں میں آکے زلف چلیپا کے رہ گئے

وہ بے خودی میں لےگئے جاں تک نکال کر
ہم محو دید عارض زیبا کے رہ گئے

وہ ناز آفریں جو تصور میں آگیا
ہم دونوں ہاتھ شوق میں پھیلا کے رہ گئے

اس بے خبر کی آکے کسی نے خبر نہ دی
نالے اگر کئے تو وہیں جا کے رہ گئے

مشق ستم کے واسطے باقی ہے دم ابھی
یہ کیا ستم کیا کہ ستم ڈھا کے رہ گئے

ٹھنڈا تو کرسکے نہ کلیجے کی آگ کو
تیروں کا مینہ وہ سینے پہ برسا کے رہ گئے

یہ تھے میرے نصیب کہ میخانہ کھل گیا
اغیار منتظر در توبہ کے رہ گئے

لایا نہ ایک کو بھی میں اپنے خیال میں
جلوے مری نظر میں بہت آکے رہ گئے

بس اور کیا کہوں کہ خدا آگیا نظر
وہ برق حسن دل پہ جو لہرا کے رہ گئے

قاتلؔ کی انتظار میں گزری تمام عمر
ارمان خون ہو کے تمنا کے رہ گئے

قاتل اجمیری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم