MOJ E SUKHAN

گھر لوٹتے ہیں جب بھی کوئی یار گنوا کر

گھر لوٹتے ہیں جب بھی کوئی یار گنوا کر
رو لیتے ہیں ہم زاد کو سینے سے لگا کر

کس کو تھی خبر اس میں تڑخ جائے گا دل بھی
ہم خوش تھے بہت صحن میں دیوار اٹھا کر

کچھ اور بھی بڑھ جاتی ہیں حیرانیاں دل کی
سو بار کہا ہے کہ نہ آئینہ تکا کر

ساون میں تو خود سوزی بھی ہو جاتی ہے ناکام
ریلا سا گزر جاتا ہے سب عزم بجھا کر

میں ترک تعلق پہ بھی آمادہ ہوں لیکن
تو بھی تو مرا قرض غم ہجر ادا کر

یہ طے ہے کہ اب ہم نے نہیں ملنا دوبارہ
یہ بات مگر اور کسی سے نہ کہا کر

اس کار محبت میں تو ہوتا ہے خسارہ
اے صاحب زر تو یہ تجارت نہ کیا کر

اک شہد سا گھلتا چلا جاتا ہے دہن میں
لیتا ہوں میں جب سانس تری سانس ملا کر

حسن عباس رضا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم