MOJ E SUKHAN

ہماری آنکھ نے دیکھے ہیں ایسے منظر بھی

ہماری آنکھ نے دیکھے ہیں ایسے منظر بھی
گلوں کی شاخ سے لٹکے ہوئے تھے خنجر بھی

یہاں وہاں کے اندھیروں کا کیا کریں ماتم
کہ اس سے بڑھ کے اندھیرے ہیں دل کے اندر بھی

ابھی سے ہاتھ مہکنے لگے ہیں کیوں میرے
ابھی تو دیکھا نہیں ہے بدن کو چھو کر بھی

کسے تلاش کریں اب نگر نگر لوگو
جواب دیتے نہیں ہیں بھرے ہوئے گھر بھی

ہماری تشنہ لبی پر نہ کوئی بوند گری
گھٹائیں جا چکیں چاروں طرف برس کر بھی

یہ خون رنگ چمن میں بدل بھی سکتا ہے
ذرا ٹھہر کہ بدل جائیں گے یہ منظر بھی

علیؔ ابھی تو بہت سی ہیں ان کہی باتیں
کہ ناتمام غزل ہے تمام ہو کر بھی

علی احمد جلیلی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم