MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

یہ جو ہیں لہو میں تر کچھ نشان کاندھوں پر

یہ جو ہیں لہو میں تر کچھ نشان کاندھوں پر
ہم نے عمر بھر ڈھویا اک جہان کاندھوں پر

سوچتے تھے دھرتی کی مانگ ہم سنواریں گے
آ گرا ہے چلتے ہی آسمان کاندھوں پر

فرصتِ رہائی بھی یوں ملی کہ رکھی ہے
اک چٹان پیروں پر اک چٹان کاندھوں پر

ہم نے یوں بسر کرلی عمر رائیگانی میں
پاؤں میں سفر باندھا سائبان کاندھوں پر

سوچتے ہیں جب اپنے بال و پر شکستہ تھے
ہم نے تان لی آخر کیوں اڑان کاندھوں پر

مشتاق خلیل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم