MOJ E SUKHAN

خواب در خواب سلسلہ ہے کیا

غزل

خواب در خواب سلسلہ ہے کیا
کوئی صحرا میں گل کھلا ہے کیا
سوچ کر دشت میں قدم رکھنا
درد سہنے کا حوصلہ ہے کیا
جیتے جی مارتا ہے پیاروں کو
دل کا یہ مرض لا دوا ہے کیا
دیکھکر عشق کی طلب،حسن نے
ہجر کی اوڑھ لی ردا ہے کیا
لوگ سچ بولنے سے ڈرتے ہیں
حق بیانی ، یہاں سزا ہے کیا
صوفیہ ان سے ہےکیوں آس وفا
جو نہیں جانتے وفا ہے کیا
صوفیہ حامد
Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم