غزل
خواب در خواب سلسلہ ہے کیا
کوئی صحرا میں گل کھلا ہے کیا
سوچ کر دشت میں قدم رکھنا
درد سہنے کا حوصلہ ہے کیا
جیتے جی مارتا ہے پیاروں کو
دل کا یہ مرض لا دوا ہے کیا
دیکھکر عشق کی طلب،حسن نے
ہجر کی اوڑھ لی ردا ہے کیا
لوگ سچ بولنے سے ڈرتے ہیں
حق بیانی ، یہاں سزا ہے کیا
صوفیہ ان سے ہےکیوں آس وفا
جو نہیں جانتے وفا ہے کیا
صوفیہ حامد