MOJ E SUKHAN

مرا دل مبتلا ہے جھانولی کا

غزل

مرا دل مبتلا ہے جھانولی کا
تری انکھیاں سلونی سانولی کا

گیا تن سوکھ انکھیاں تر ہیں غم سیں
ہوا ہوں شاہ خشکی و تری کا

جبھی تو پان کھا کر مسکرایا
تبھی دل کھل گیا گل کی کلی کا

کہتا ہوں وصف دنداں و مسی کے
مزا لیتا ہوں اب تل چاولی کا

نہیں ہے ریختے کے بحر کا پار
سمجھ مت شعر اس کوں پارسی کا

جو رو پاؤ تو دل میرا دکھاؤ
سنا ہے شوخ خواہاں آرسی کا

مجھے کہتے ہیں یکروؔ سب محباں
کہ بندہ جاں سیں ہوں حضرت علیؔ کا

عبدالوہاب یکرو

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم