MOJ E SUKHAN

پھیر لیں یاروں نے آنکھیں بخت ڈھل جانے کے بعد

پھیر لیں یاروں نے آنکھیں بخت ڈھل جانے کے بعد
تتلیاں آتیں نہیں پھولوں پہ، مرجھانے کے بعد

باعثِ مرگِ اَنا میری یہی پستی بنی
خود کو قاتل لگ رہا ہوں ہاتھ پھیلانے کے بعد

باغ میں ٹھمکے لگاتی پھرتی ہے فصلِ بہار
سرخ جھمکے نوجواں شاخوں کو پہنانے کے بعد

کر دیا دل لے کے اس نے مجھ کو پابندِ وفا
قید بھی گویا سنا دی اس نے جرمانے کے بعد

شہر کے ماحول میں بھی سانپ سو قسموں کے ہیں
جوگیو! پھیرا ادھر بھی ایک ویرانے کے بعد

چھو رہے تھے ظالموں کے سر مرے پیروں کے ساتھ
کس قدر اونچا تھا میں سولی پہ چڑھ جانے کے بعد

نازؔ میں خود کو نجانے کیوں برہنہ سا لگا
آرزو کو لفظ کی پوشاک پہنانے کے بعد
٭٭٭
نازؔ خیالوی​

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم