MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ملی پرسوں نظر انکی تو کل ہوٹل میں کھانا تھا

ملی پرسوں نظر انکی تو کل ہوٹل میں کھانا تھا
ترس جاتے تھے ملنے کو ہمارا کیا زمانہ تھا

تھا جب تک حسن با پردا فضا میں پارسائی تھی
وجود زن زمانے میں حیا کا اک خزانہ تھا

اسے بھی چاہ تھی میری مگر سنگدل وہ ایسی تھی
کہ اس کا شوق رستوں کو مرے مشکل بنانا تھا

جو ٹوٹا دل رقیبوں کا بھلا میری خطا کیا ہے
تمہارے راز سے اک دن یہ پردا تو ہٹانا تھا

میں اپنی بزم کی تشہیر اس مقصد سے کرتا ہوں
بلانا تھا بلانا تھا فقط انکو بلانا تھا

میری قسمت جو میں نے ہوش کھویا دیکھ کر ان کو
انہیں تو رات بھر اب چاندنی میں ہی نہانا تھا

تماشا کر چکے اشرف ذرا خاموش بھی ہو اب
جو غافل ہوگئے ان کو تمہیں ہی کیوں جگانا تھا

اشرف بابا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم